November 13, 2019

Why Quaid-e-Azam Make Pakistan? and Who Gave Him Order to Make Pakistan

ایک بار قائداعظم محمدعلی جناح سکول اور کالج کے طلبہ سے خطاب کر رہے تھے ایک ہندو لڑکے نے کھڑے ہو کر آپ سے کہا کہ آپ ہندوستان کا بٹوارا کرکے ہمیں کیوں تقسیم کرنا چاہتے ہیں آپ میں اور ہم میں کیا فرق ہے قائداعظم نے جب یہ سنا تو کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے جس پر لڑکوں نے آپ پر جملے کسنا شروع کر دیا کچھ نے کہا کہ آپ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے اور پھر ہر طرف سے ان دو لڑکوں کی ہوٹنگ اور قہقہوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں قائداعظم تحمل سے اپنی کرسی پر بیٹھ گئے اور اپنے لئے پانی کا گلاس منگوایا آپ نے اس میں سے تھوڑا سا پانی پیا اور باقی بچے ہوئے پانی کو میز پر رکھ دیا اس کے بعد آپ نے اسے دو لڑکوں کو بلوایا اور انہیں باقی بچا ہوا پانی پینے کو کہا اُن دو لڑکے نے وہ پانی پینے سے انکار کردیا پھر اپنے مسلمان لڑکے کو بلایا اور آپ نے وہی بچا وہ پانی ایک مسلم لڑکے کو پینے کے لئے دیا وہ مسلم لڑکا فوراً قائداعظم کا جھوٹا پانی پی گیا اس کے بعد قائداعظم نے دوبارہ طلبہ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا یہ فرق ہے آپ میں اور ہم میں اب ہر طرف سناٹا چھا گیا تھا کیونکہ سب کے سامنے فرق واضح ہوچکا تھا قائداعظم محمد علی جناح نے کبھی کسی کو گالی نہ دی اور نہ ہی کبھی آپ نے بد اخلاقی کی آپ اپنی بات اس قدر ٹھوس دلائل سے پیش کرتے تھے کہ بڑے بڑے منہ ذور بھی آپ کے سامنے لاجواب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے قائد اعظم سے لوگوں کی محبت کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی آپ سے ہاتھ ملا لیتا تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا تھا اور سارا دن لوگوں کو بتاتا تھا کہ آج میں نے قائد اعظم سے ہاتھ ملایا ہے

قائداعظم کی زندگی ایسے بہت سے واقعات سے بھری ہوئی ہے ایک مرتبہ آپ ایک ٹرین میں سفر کر رہے تھے آپکے ساتھ ایک ہندو عورت بھی سفر کررہی تھی۔ دورانِ سفر اُس عورت نے آپ کے کردار پر داغ لگانے اور آپکو بدنام کرنے کے لئے آپ پر جھوٹا الزام لگایا کہ آپ نے اُس ہندو عورت کے ساتھ زیادتی یعنی زنا کیا ہے۔ جب آپ کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے لئے پولیس گرفتار کرنے آپکے ٹرین کمپارٹمنٹ میں پہنچی تو آپ نے پولیس آفیسر سے کہا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ میرے ہاتھ میں میرا سگار موجود ہے اگر میں نے اس عورت کے ساتھ زیادتی کی ہوتی تو اِ س سگار کی راکھ پورے کمپارٹمنٹ میں پھیلی ہوتی جبکہ تم دیکھ رہے ہو کہ میرے ہاتھ میں موجود سگار کی راکھ یہ بتا رہی ہے کہ یہ سگار پچھلے کم ازکم تین گھنٹے سے جل رہا ہے جبکہ اِ س عورت کو اِس کمپارٹمنٹ میں آئے ابھی صرف اور صرف ایک گھنٹا گزرا ہے جس پر اُ س پولیس آفیسر نے اُس ہندو عورت کو گرفتار کرلیاجس نے بعد میں یہ بیان دیا کہ مجھے ایسا کرنے کو قائداعظم کے مخالفین نے کہا تھا۔

قائداعظم ؒ جب پاکستان بننے کے بعد بیمار ہوئے تو اُنکے باورچی بتاتے ہیں کہ آپ اکثر آسمان کی طرف رُخ کرکے کہا کرتے تھے کہ یا رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وآلہ وسلم میں نے آپ سے کیا وعدہ پورا کردیا او ر برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لئے علیحدہ سے وطن حاصل کر لیا ہے۔ اِ س وعدہ کی حقیقت کچھ اس طرح سے ہے کہ جب قائداعظم ؒ 1934میں انگلیڈ میں مقیم تھے جب آپ ہندوستان واپس تشریف لے آئے تو اُنکے سب سے قریبی دوست مولانا شبیر نعمانی صاحب جنہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا جھنڈا لہرایا تھا۔اُنہوں نے قائداعظمؒ سے کہا کہ ہم سب بہت خوش ہیں کہ آپ واپس تشریف لے آئے ہیں لیکن ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ جب ہم آپ کو بار بار درخواست کر رہے تھے اور آپ ہمار ی درخواست پر واپس ہندوستان تشریف نہیں لا رہے تھے۔ کیا علامہ اقبال صاحب نے کوئی ایسا شعر لکھا ہے جس کی وجہ سے آپ واپس ہندوستان تشریف لے آئے ہیں۔ایسا کیا ہوا جو آپ فوراً بھاگے بھاگے ہندوستان واپس آگئے؟
قائداعظم فرمانے لگے نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں اصل میں میرے ہندوستان آنے کی وجہ کچھ اور ہی ہے۔میںآپکو حقیقت ضرور بتاؤں گا لیکن ایک شرط پر کہ جب تک میں زندہ ہوں آپ کسی کو نہیں بتائیں گے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب نے وعد ہ کر لیا کے ٹھیک ہے میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔
قائداعظم فرمانے لگے میں انگلینڈ میں تھا کہ ایک رات کو میرا پلنگ ہلنے لگا میں سمجھا شاید زلزلہ آگیا ہے میں فوراً یہ سوچتے ہوئے باہر نکلا کہ ابھی یہا ں میرے ساتھ مزید لوگ بھی اکٹھے ہوجائیں گے لیکن باہر نکل کر دیکھا کہ ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے وہاں زلزلے کے کوئی بھی اثار نظر نہیں آرہے میں پھر اپنے کمرے میں آکر سوگیا۔ کچھ دیر کے بعد پھر میرا پلنگ بہت زور سے ہلنے لگا میں پھر سے اُٹھ کر بیٹھ گیا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخصیت کھڑی ہیں میں چاروں طرف دیکھنے لگا کہ یہ شخصیت کون ہے اور کہاں سے میرے کمرے میں آگئی ہے۔ میں کھڑا ہوگیا اور کھڑا ہوکر انگلش میں پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ کیونکہ میں انگلینڈ میں تھا اور وہا ں آکسفورڈ لہجے میں ہی بات کی جاتی ہے تو میں یہ ہی سمجھا کہ یہ بھی کوئی انگلینڈ کی ہی شخصیت ہوں گے۔ تو مجھے جواب دُنیا کیے بہترین آکسفورڈانگلش لہجے میں جوا ب ملا
میں تمہارا نبی ء اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہوں
میں حیران اور پریشان کھڑا تھا میرے جسم کے تمام رونگٹے کھڑے ہو چکے تھے۔ میںآپکی کیا خدمت کر سکتاہوں میرے آقا۔میں نے سوال پوچھا
برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کو تمہاری اشد ضرورت ہے تمہیں فوراً واپس ہندوستان جانا چاہیے میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ فوراً ہندوستان چلے جاؤ اور وہاں جا کر تحریکِ آذادی کو لیڈ کرواور پریشان مت ہونا میں صلی اﷲعلیہ وآلہ وسلم تمہارے ساتھ ہوں تم اپنے اس مشن میں کامیاب ہوں گے انشااﷲ

اسی طرح کا ایک اور واقعہ مبشر لقمان کے ایک پروگرام میں بیان کیا گیا جب مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں پرنس آف کلات سے سوال کیا کہ آخر آپ نے بلوچستان کو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کا اعلان کیوں کیا؟ جب کہ برٹش گورنمنٹ بلوچستان کو الگ مملکت بنانے کے لئے تیار تھی۔ آخر کیا وجہ تھی ؟
جس پر پرنس آف کلات نے جواب دیا کہ میرے دادا کے قائداعظم کے ساتھ قریبی تعلقات تھے تو میرے دادا کو جب قائداعظم نے یہ کہا کہ ہم اسلام کے نام پر ایک ملک بنانا چاہتے ہیں تو میرے دادا نے اُنکی بات کو سراہا اور کہا کہ ہاں ایسا ہونا چاہیے لیکن اصل وجہ کچھ اور تھی میرے دادا کو خواب میں نبیء اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے میرے دادا کو حکم دیا کہ کل میرا مجاہد تمہارے پاس آرہا ہے اپنی ریاست کا الحاق پاکستان کے ساتھ کردو
جی ہاں ایسا ہی تھا ہمارا قائد ہمارا لیڈر
دوستوں ہم اُمید کرتے ہیں کہ آپ کو آج کے آرٹیکل میں کافی معلومات ملی ہوں گی اِ س آرٹیکل کو انگلش میں پڑھنے کے لئے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں اور اگر آپ اِس آرٹیکل کی ویڈیو دیکھنا چاہتے ہیں تو بھی نیچے اُس کا لنک دیا گیا ہے مزید اِ س طرح کے نئے آرٹیکلز کو پڑھنے کے لئے ہمارا فیس بک پیج لائک کریں اور ویڈیوز کے ہمارا چینل سب سکرائب کریں۔

Rana Furqan Ali

Read Previous

Five Places to Visit before they Disappear from Earth