November 13, 2019

Five Places to Visit before they Disappear from Earth

ہماری دنیا یقیناً بہت ہی خوبصورت تخلیق ہے اس میں موجود پرکشش اور دلچسپ سیاحتی مقامات مثلاً بلند و بالا پہاڑ برف سے ڈھکی چوٹیاں خوبصورت آبشاریں گلیشیر اور رنگ برنگی سمندری مخلوق اس کے بنانے والے کی بڑائی اور شان کو ظاہر کرتی ہیں مگر کیا آپ نے کبھی یہ سوچا کہ یہ سب خوبصورت مقامات اور مخلوقات اگر ایک ایک کرکے دنیا سے ختم ہونا شروع ہو جائے تو کیا ہوگایقیناًآپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے مگر ماہرین کی تحقیقات کے مطابق دنیا کے خوبصورت اورپرکشش مقامات کو شدید موسمی حالات اور تبدیلیوں کا سامنا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ خود انسان ہی ہے کیونکہ اکیسویں صدی کا انسان آلودگی اور غیر دانشمندانہ حکمت عملیوں کے ذریعے اس دنیا کے قدرتی حسن کو تباہ کر رہا ہے آج کے اِ س آرٹیکل میں ہم 5 ایسے خوبصورت اور پرکشش سیاحتی مقامات کا ذکر کریں گے جن کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہی موسمی تبدیلیاں اور نہ ناقص انسانی حکمتِ عملیاں جاری رہی تو آنے والے چند سالوں میں یہ خوبصورت مقامات اور ان میں موجود مخلوقات ہمیشہ کے لئے ناپید ہو جائیں گے جیسے کبھی زمین پر ان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا
نمبر ایک: ڈیڈ سی یا بحیرہء مرداردُنیا کا ایک مقبول ترین سیاحتی مقام ہے اس سمندر کا پانی اپنی شفایابی کی خصوصیت کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے اس سمندر کا پانی انتہائی نمکین ہے جس کی وجہ اس میں موجود سوڈیم کلورائیڈ یعنی نمک اور دوسرے آبی منرلز کی موجودگی ہے عام سمندر میں نمک کی مقدار 35گرام پر لٹر ہوتی ہے جبکہ ڈیڈ سی میں اِ س کی مقدار 342گرام پر لٹر ہے جو اِسے دنیا کا سب سین نمکین ترین سمندر بھی بناتا ہے اِسی خاصیت کی بنا پر اِس سمندر میں پودے اور جاندار بالکل بھی نہیں ڈوبتے بلکہ بنا کسی سہارے کے لیے سمندر پر ہی تیرتے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کا نام ڈیڈ سی ہے یہ سمندر 50کلومیٹر لمبا اور 15 کلو میٹر چوڑا ہے اور 997 فٹ گہرا ہے یہ مشرق سے اردن میں اور مغرب سے فلسطین اور اسرائیل میں واقع ہے یہ مقام ہزاروں سالوں سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے جس کی سب سے بڑی وجہ اس میں کس جسم کانہ ڈوبنا اور اس کے سمندری پانی سے حاصل ہونے والی منرلز ہیں جن کو کاسمیٹکس اور دوسرے ہربل ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے مگر اس مندر کے وجود کو بھی شدید ترین خطرات لاحق ہیں جو کہ اس کا پانی سالانہ 3فٹ سے زائد نیچے ہوتا چلا جا رہا ہے ماضی میں اردن نے کئی نہریں اور پائپ لائن کے ذریعے پانی کی گرتے ہوئے لیول کو کم کرنے کی کوشش کی مگر ایسا ممکن نہ ہو سکا کیونکہ پانی کے اندر کیمیائی تبدیلیوں نے اثر انداز ہونا شروع کردیا اور خطرہ لاحق ہوگیا کہ ڈیڈ سی اپنی اصلی خاطر کھودے گا اس کے علاوہ اردن کی طرف سے یعنی دو سمندری نہروں پر مشتمل پروجیکٹ پر کام شروع کردیا گیا جس کی بدولت بحیرہ مردار کے نمکیات اور پانی کے لیول کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی اگر یہ منصوبہ کامیاب نہ ہوا تو بحیرہ مردار یا ڈیڈ سی جلدہی اپنا وجود کھو بیٹھے گا
نمبر دو ڈی ایلپس یورپ میں واقعہ بارہ سو کلومیٹر پر مشتمل ایک طویل پہاڑی سلسلہ ہے جس میں آج یورپی ممالک فرانس ، سوئزرلینڈ ،اٹلی مناکو، لکٹنسٹائن، آسٹریا، جرمنی اور سلونیاشامل ہیں ماہرین کے مطابق یہ پہاڑی سلسلہ تین سے چاربلین سال پہلے دنیا کی بناوٹ کے دوران جزائر کی پلیٹوں میں ٹکراؤ کے نتیجے میں وجود میں آئے اس پہاڑی سلسلے کی سب سے بلند چوٹیاں ماؤنٹ بلینک اور دی میٹ ہونین ہیں۔ماؤنٹ بلینک فرانس اور اٹلی کے بارڈر پر واقع ہے اور 4810 میٹر زیعنی 15781فٹ بلند ہے۔ دی ایلپس کا پہاڑی سلسلہ اندازً سطح زمین سے4000میٹر بلند ہے اور اسی پہاڑی سلسلے کی بدولت یورپ کا موسم کون ہوتا ہے ایبکس نامی جنگلی حیات اور مختلف ہوتے ان پہاڑیوں پر00 34 میٹر کی بلندی پر موجود ہیں انسانوں کے ان پہاڑوں پر پیدائش آبادکاری اور رہائش سے متعلق جو ثبوت ملے ہیں ان کے مطابق انسان پانچ ہزار سال پہلے ان پر آباد تھا پہاڑی سلسلوں پر آج بھی کئی تہذیبیںآباد ہیں اور فارمنگ ،چیز میکنگ لکڑی کی کٹائی کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں بیسویں صدی میں یہاں ٹوریزم انڈسٹری بڑھنا شروع ہوئی یہاں تک کہ ونٹر اولمپکس بھی یہاں پر منعقد ہوچکے ہیں اور آج کے دور میں یہ چودہ ملین لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے جبکہ 120 ملین لوگ سالانہ اس خوبصورت سیاحتی مقام کو وزٹ کرتے ہیں یہاں موجود خوبصورت آبشار پر فضا ماحول برف پر اسکیٹنگ اور کووپیمائی یورپ کے لوگوں کے لئے کسی جنتی مقام سے کم نہیں اور کوئی بھی شخص یہاں آ کر اس کے حسن سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا مگر بدقسمتی سے موسمیاتی تبدیلیوں نے اس قدرتی حسن کو بھی اپنا شکار بنا لیا ہے ماہرین نے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور درختوں کے کٹاؤ کو ان چوٹیوں کے وجود کے لیے بھی خطرہ قرار دے دیا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں ایلف نامی یہ پہاڑی سلسلہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائے گا اور تمام برف پگھل کر سمجھے پانیوں میں مزید اضافے کا باعث بنے گی جبکہ پہاڑوں پر موجود حسن ختم ہوکر رہ جائے گا اور اپنے پیچھے صرف خشک اور چٹیل میدان چھوڑ دے گا

نمبر۳۔ گرین لینڈ شمالی امریکا میں واقع ایک جمہوری ملک ہے جو کہ ڈینمارک کی حکومت کے ماتحت ہے اس کا 75 فیصد حصہ برف سے ڈھکا ہوا ہے اور تقریبا 57 ہزار لوگوں کی آبادی پر مشتمل ہے یہاں موجود پہاڑی سلسلے اور برف سے بنی خوبصورت چوٹیاں نہایت خوبصورت قدرتی حسن پر مشتمل ہے مگر حالیہ سالوں میں گرین لینڈ کی پگھلتی برف جہاں ا سکے حسن کو تباہ کر رہی ہے وہیں دنیا بھر کے سمندروں کی سطح میں اضافے کا سب سے بڑا سبب بھی بن رہی ہے ہر سال یہاں درجہ حرارت پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ ہوتا جا رہا ہے ابھی تک تو یہاں بڑے بڑے برفانی تودے اپنی اصلی حالت میں کسی نہ کسی طرح موجود ہے مگر جس تیزی سے یہ درج حرارت بڑھ رہا ہے اس سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جلد ہی ختم ہو جائے گا

نمبر فور وینس اٹلی کا شہر وینس اپنی نہروں اور سینکڑوں پولوں کی بدولت بہت زیادہ شہرت رکھتا ہے اور دنیا کے چند خوبصورت ترین مقامات میں اس کا شمار ہوتا ہے اسے اپنی پانی کی گزرگاہوں کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے جو کہ یہاں لوگ اپنا سفر گھروں سے باہر نکل کر گاڑیوں اور بسوں کی بجائے کشتیوں پر کرتے ہیں کیوں کہ وینس 118 چھوٹے جزائر میں سے ایک جزیرے پر مشتمل ہے جو ایک دوسرے سے نہرو اور دونوں کی مدد سے جڑے ہوئے ہیں جن کی تعداد تقریبا 400 اس شہر میں تقریبا 55 ہزار لوگ رہائش پذیر ہیں یورپ کے لوگوں کے لیے ایک بہت ہی خوبصورت سیاحتی مقام ہے جسے وہ ہر صورت گھومنے کے لیے سب سے پہلے ترجیح دیتے ہیں اور یہ لاکھوں لوگ ہر سال یہاں گھومنے کریں آتے ہیں بدقسمتی سے یہ تاریخی اور رومانوی شہر اپنے ہی پانی میں ڈوب رہا ہے اور حالیہ تحقیقات کے مطابق اس کے ڈوبنے کی رفتارمیں اضافہ ہورہا ہے یہاں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے اگر یہ ہی سلسلہ جاری رہا تو یہ شہر آئندہ آنے والے چند سالوں میں مکمل طور پر دنیا سے غائب ہو جائے گا

نمبر ۵۔دی گریٹ بیرئیر ریف آسٹریلیا کے کوئین لینڈ میں موجوددی گریٹ بیریئر ریف کو قدرتی عجائبات میں سے ایک جانا جاتا ہے اور یہ دنیا کا سب سے بڑا کورل ریف سسٹم بھی ہے یعنی یہاں چھوٹے چھوٹے رف شکل میں موجود زیر زمین پہاڑ موجود ہیں جو تعداد میں تقریباً 2900ہیں جنہیں بے تحاشہ سمندری مخلوق یا آبی حیات آباد ہے یہ ریف سسٹم 900 جزائر پر مشتمل ہے اور تین سو کلومیٹر لمبائی میں واقع ہے یہاں زندگی کا وجود بہت سی اقسام میں موجود ہے اسے1981 میں دنیا کے قدرتی ورثوں کی لسٹ میں بھی شامل کر لیا گیا ہے یہ علاقہ مچھلی پکڑنے کواور سیاحت کے لیے بہت مشہور ہے اور قدرتی حسن پر مشتمل ہے یہ علاقہ اتنا بڑا ہے کہ اسے خلا سے بھی دیکھا جا سکتا ہے جو کہ یہ آبی مخلوقات کی جانب سے بنایا جانے والا سب سے بڑاسٹرکچر ہے ماہرین کی تحقیق کے مطابق انیس سو پچاسی سے اب تک یہ مقام آدھے سے زیادہ اپنا حسن ہوچکا ہے اور یہاں بسنے والے سمندری جاندار بھی آدھے سے زیادہ ختم ہوچکے ہیں اور مزید یہ سلسلہ ابھی تک مسلسل جاری ہے جس کی وجہ بڑھتی ہوئی آلودگی اور موسمی تبدیلیاں ہیں اگر یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا ہے موسمی تبدیلیاں ہیں اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو آئندہ 20 سالوں کے دوران یہاں موجود سمندری حیات کا مکمل خاتمہ ہوسکتا ہے جس کے بعد ہی یہ سمندر بھی اپنی اہمیت کھو بیٹھے گا
دوستوں ہم اُمید کرتے ہیں کہ آپ کو آج کے آرٹیکل میں کافی معلومات ملی ہوں گی اِ س آرٹیکل کو انگلش میں پڑھنے کے لئے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں اور اگر آپ اِس آرٹیکل کی ویڈیو دیکھنا چاہتے ہیں تو بھی نیچے اُس کا لنک دیا گیا ہے مزید اِ س طرح کے نئے آرٹیکلز کو پڑھنے کے لئے ہمارا فیس بک پیج لائک کریں اور ویڈیوز کے ہمارا چینل سب سکرائب کریں۔

Rana Furqan Ali

Read Previous

World’s 1st Passenger Drone in Dubai

Read Next

Why Quaid-e-Azam Make Pakistan? and Who Gave Him Order to Make Pakistan